اکثر ان لڑکیوں کا پیار بالکل سچا ہوتا ہے جو مذاق مذاق میں بار باریہ کہتی ہیں۔۔۔؟؟

تلخ حقیقت ! محبت میں واحد چیز جسم ہی ہے جو توجہ کا اصل مرکز ہوتا ہے۔ عشق وہ ہوتا ہے جو لاحاصل ہو، جس کی تڑپ ہو،جس کی کمی محسوس ہو، وہ عشق ہی کیا جو حاصل ہوجائے۔ مرد اور عورت کی تخلیق کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد ہی ایک دوسرے کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کرناہے۔ عورت کی شدت سے خواہش ہوتی ہے۔ کہ جب وہ تکلیف میں ہو تب مرد اس کے بنا کہے اس کی تکلیف کو سمجھ کر اسے سینے سے لگائے پیار سے پوچھے۔

اور اگر وہ رودے تو اپنی بازوؤں کے حصار میں اسے جی بھر کے رولینے دے جب اس کا دل ہلکا ہوجائے تب محبت سے اس کے آنسو صاف کرے اور خود کے ہونے کا احساس دلائے تسلی دے کہ میں ہوں تمہیں سننے اور تمہارے بکھرے وجو د کو سمیٹنے کے لیے ۔ مرد کہتا ہے کہ تعلق ختم ہونے کے بعد عورت جلدی آگے بڑھ جاتی ہے۔

اور عورت کا کہنا ہے کہ مرد، مگر سچائی یہ ہے کہ جس نے کبھی محبت کی ہی نہ ہو وہی آگے بڑھتا ہے، سچااورمخلص ہمیشہ وہیں بندھا رہ جاتا ہے ، بات تو مخلص پن اور سچائی کی ہے۔ عورت کو تب تک بات ہضم نہیں ہوتی جب تک وہ بات دوسری عورت سے نہ کرلیں۔ اکثر لمبے قد والی دو شیزہ بزدل ہوتی ہیں۔ اکثر ان لڑکیوں کا پیار بالکل سچا ہوتاہے۔

جو مذاق مذاق میں بار بار یہ کہتی ہیں کہ اگر مجھے وقت نہ دیا تو کسی اور کی ہوجاؤں گی۔ جتنا بھی حقیقت سے انکار کر لو صاحب یہ ناف سے نیچے کی محبتوں کا ہی دور ہے ۔ روح سے محبت کا نہیں ۔ گفتگو شروع چہرے یا آنکھوں سے ہوتی ہے۔ اور معذرت کے ساتھ تما م نا ف سے نیچے ۔ ناف سے نیچے کے وجود کی خواہش جاگتے ہی محبت رخصت ہوجاتی ہے۔ کسی کو بھی اپنی ذات کی سچائیوں تک رسائی نہیں دینی چاہیے ۔ کیونکہ جو آپ کو جان لیتا ہے۔ پھر وہی آپ کی جان لیتا ہے۔

یہ جو نکاح سے پہلے محبت ہوتی ہے۔ نایہ محبت دردضرور دیتی ہے۔ چاہے یہ محبت جتنی بھی پاک ہو یہ آپ کو ستائے بغیر نہیں چھوڑتی ۔ یہی محبت نکاح کے بعد سکون بھی ہے اور عبادت بھی۔ وہ لمحہ بہت ہی بھاری ہوتاہے۔ جب ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ۔ اپنے دل کے خلاف فیصلہ دے کر اپنے ہی صبرکا امتحان لیتے ہیں۔ جب آپ کو احساس ہوجائے کہ آپ کسی کی زندگی میں ایک اضافی شے کے سوا کچھ نہیں تو آپ خاموشی سے منظر سے غائب ہوجانا چاہیے محبت ہجر تو برداشت کرسکتی ہے تذلیل نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *