وہ ایک پر اسرار شام تھی اور اس آدمی کا ڈرائیور ابھی تک اس کو لینے ابھی تک نہیں آیا تھا

پروفیسر آفتاب کی پیشانی پر بل پڑے ہوئے تھے ان کا ڈرائور ابھی تک نہیں آیا وہ وقت کی پابندی کے لیے مشہور تھے کسی جگہ پہنچنے کی جو وقت مقرر ہوتا وہ اس سے ا یک سیکنڈ بھی لیٹ پہنچنا پسند نہیں کرتے تھے۔ آج انہیں ایک اہم میٹنگ میں جا نا تھا شام پانچ بجے کا وقت طے تھا پونے پانچ بج چکے تھے اور ان کے خیال میں راستہ بیس منٹ کا تھا گو یا اس وقت تک وہ پانچ منٹ تو لیٹ ہو ہی چکے تھے آخر ڈرائیور کی صورت نظر آئی اس نے ہارن بجا یا تو وہ باہر کی طرف دوڑ پڑے جلدی سے کار میں بیٹھے اور بولے ہم میٹنگ کے وقت سے پانچ منٹ لیٹ پہنچیں گے ان پانچ منٹوں کی وجہ سے آج مجھے جو شر مندگی اٹھانی پڑے گی اس کے ذ مے دار تم ہو گے تم اچھی طرح جانتے ہو میں وقت کا کتنا پابند ہوں اس کے باوجود تم پندرہ منٹ لیٹ آئے ہو میں نے تمہیں پہلے بتا دیا تھا

کہ مجھے پانچ بجے پہنچنا ہے اور تم میرے پاس ساڑھے چار بجے پہنچ جا نا لیکن تم پونے پانچ بجے سے بھی تیس سیکنڈ بعد پہنچے ہو اب میں تمہیں اور کیا کہوں؟ تمہیں ملازمت سے فارغ کر تا ہوں تو تمہارے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال آتا ہے کیو نکہ غلطی تمہاری ہے اور سزا ملے گی تمہارے بچوں کو۔ وہ یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گئے ڈرائیور نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا بس پوری توجہ سے گاڑی چلا تا رہا جب انہوں نے دیکھا کہ اس نے ان کی باتوں کے جواب میں یہ تک نہیں کہا کہ سر مجھے افسوس ہے تو انہیں اور غصہ آنے لگا بولے تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔

ڈرائیور اب بھی خاموش رہا اس کی پوری توجہ گاڑی چلانے کی طرف تھی انہوں نے جھلا کر کہا خیر میٹنگ سے فارغ ہو کر تم سے بات کروں گا مگر ڈرائیور اب بھی کچھ نہ بو لا اس کی نظریں اب بھی سڑک پر تھیں پھر گاڑی رک گئی انہوں نے چو نکہ کر دیکھا کہ میٹنگ ہال کے سامنے پہنچ چکے تھے انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو انہیں خوش گوار حیرت کا ایک جھٹکا لگا پانچ بجنے میں چند سیکنڈ باقی تھے۔ کچھ کہے بگیر وہ بلا کی تیزی سے کار سے نکلے اور اندر کی طرف دوڑ پڑے جب وہ ہال میں داخل ہوئے تو گھڑیاں پورے پانچ بجا رہی تھیں اور تمام لوگ انہیں آج بھی تعریفی نظروں سے دیکھ رہے تھے میٹنگ سے فارغ ہو کر وہ کار میں آ بیٹھے ڈرائور نے گھر کا رخ کیا اب دونوں خاموش تھے۔

یہ خاموشی پروفیسر آفتاب کو چبھنے لگی آخر انہوں نے کہا تمہاری خاموشی پر اسرار سی ہے جو مجھے الجھن میں مبتلا کر رہی ہے آخر کچھ تو بو لو میں تسلیم کرتا ہوں تم نے لیٹ پہنچنے کے باوجود مجھے میٹنگ ہا میں وقت پر پہنچا یا اس کے لیے میں تمہارا جتنا شکر یہ ادا کروں کم ہے تم نے مجھے شرمندگی سے بچا لیا لیکن یہ بھی تو سوچو کہ کتنی تیز ڈرائیونگ کر نا پڑی تیز ڈرائیونگ بہر حال خطر ناک ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *