وہ مجھے ہر جگہ ملا اک میر ی تقدیر کے سوا

کوئی ہے اہل ذوق تو میدان میں آئے زرا اپنے شعر سے اپنی پہچان کرائے۔ شاعری تو مصنف لکھتے ہیں میں تو باغی ہوں درد لکھتا ہوں۔ ہر زندہ سانس تو لیتا ہے مگر ہر سانس لینے

والا زندہ نہیں ہوتا۔ اے گردش ایام مجھے رنج بہت ہے ۔ کچھ خواب تھے ایسے جو بکھرنے کے نہیں تھے۔ سب سے مشکل ہے یہ گورا کرنا دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا۔ میں شکل سے پہچان جاتا ہوں منافق کو ہرروز میرا ایک یار پکڑا جاتا ہے۔ اپنےاپنے دائرے میں دیکھ لو ۔

حسب طاقت ہرکوئی فرعون ہے۔ خود کلامی بتاؤ کیوں نہ کروں ۔ دوسرا کون بات سنتا ہے۔ اے موت! تو کب سستی ہوگی میں نے تو تمہیں زندگی دے کر خریدنا ہے۔ آج تو موت کی سی تھکاوٹ ہے ۔ دل کرتا ہے زندگانی اتار کر رکھ دوں۔ مایوس ہوگیا دل اس زندگی کے سفر سے مقصد کی محبتیں اور مطلب کی یاریاں۔ اس نے وعدہ تو کر لیا لیکن گھر غریبوں کے کون آتا ہے۔

کوئی نہیں ہوتا اپنے سوا دوسرا دوسرا ہی ہوتاہے۔ بس ایک موڑ مڑگیا تھا غلط پھر نہ رستہ ملا۔ نہ گھر ملا۔ میری منزل سے کہہ آؤ مسافر تھک گیا تیرا۔ کچھ لوگ مجھے اپنا کہا کرتے تھے ۔ سچ کہوں وہ صرف کہاکرتے تھے۔ آج اس فکر میں گیا میرا کل بھی اتنا اداس رہنا ہے۔ سیرتو ں کا حسن کیاجانے صورتوں کے بھکاری لوگ۔ یارب توہی بلاے زندگی تو ستار ہی ہے۔

بڑی شدت سے آزماتے ہوصبر میرا کبھی جو خود پر گزری تو بکھر جاؤ گے۔ لوگ خوش مزاج کہتے ہیں مجھے میں نے اکثر خو د کواداس پایا ہے۔ فرشتوں کے لائق نہیں ہوں میں ہمسفر چاہیے کوئی گنہگار سا۔ زندگی کبھی نہیں آئی موت آئی ہےذراذرا۔ غم د ے کر دلاسے کیسے؟ یہ تسلی کے تماشے کیسے ؟ نکلنا چاہتے ہیں ہم بدن سے کہ اب اس خاک سے اکتا گئے ہیں۔

وہ مجھے ہر جگہ ملا ایک میر ی تقدیر کے سوا۔ ہم سے مت پوچھو راستے گھر کے ہم مسافر ہیں زندگی بھر کے۔ ہم بنے تھے تباہ ہونے کو تیرا ملنا تو اک بہانہ تھا۔ ہم اپنی مثال آپ ہیں صاحب۔ کسی اورجیسا بننے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ یہ اور بات ہے تیرے روبرو نہیں گزرا۔ میں جس عذاب سے گزرا تو نہیں گزرا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے۔ اسے بھی تو محبت تھی۔ دل سے نکالو تو مان جاوں نظر انداز کرناکوئی کمال تو نہیں ۔ میں اور کسی سے دل لگاؤں بھی تو کیا لگے گا۔

میں لفظ محبت سنتا ہوں تو وہی شخص یاد آتا ہے۔ ایک ہی اپنا ملنے والاتھا۔ ایسا بچھڑا کے پھر ملا ہی نہیں۔ صدموں سے لوگ مرنہیں جاتے۔ تیر ے سامنے مثال ہے میری۔ یونہی کوئی چھوڑکر نہیں جاتا محبت بوجھ بن گئی۔ معذرت خواہ ہیں اے دل! تجھے بےقدروں کے حوالے کربیٹھے۔ اتنا تو میرے حال پر احسان کیا کر آنکھوں سے میرے درد کو پہچان لیا کرو۔ خدا کرے تیرا میرے بغیر جی نہ لگے۔ اتنے خوش بخت حقیقت میں کہاں ہیں ہم۔ جتنے تصویروں میں خوش باش نظر آتے ہیں۔ زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے میں ابھی تک تیری تصویرلے بیٹھا ہوں۔ پھر کسی اور سے نہیں جڑتے وہ جواندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *