آپ کی تمام حسرتیں پوری ہونے کا وقت آگیا ہے ۔

اس کے نام سے واضح ہے،نوح پیغمبرکی سر گزشت بیان کرتی ہے،قرآن مجید کی کئی سورتوں میںاس عظیم پیغمبرکی سرگزشت کی طرف اشارہ ہواہے ،ان میں سے سورہ شعراء ،مومنون، اعراف،اورابنیاء ہیں

، اور سب سے زیادہ تفصیل سورہ ہود میںآئی ہے،جس میں تقریباً ٢٥ آیات میں اس “” الوالعزم”” پیغمبرکے بارے میں ہیں لیکن سورہ نوح میں جوکچھ آ یاہے ،وہ ان کی زندگی کاایک خاص حصّہ ہے ،جو دوسری جگہ پراس طرح سے نہیں آ یا، اوریہ حصّہ ان کی توحیدکی طرف دعوت دینے ، اس کی کیفیت،اس دعوت کے عناصر ،اوران جز ئیات کے بارے میں جواس اہم مسئلہ میں بروئے کار آئے ہیں۔اوروہ بھی اس ہٹ دھرم ،خود غرض اور متکبرقوم کے مقابلہ میںجوحق کے سامنے سرجھکانے کے لیے بالکل تیار نہ تھی… پے درپے اور مسلسل دعوتِ حق دینے کے ساتھ مربوط ہے ۔اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوراس زمانہ کے تھوڑے سے مسلمان ،نوح اوران کے اصحاب کے زمانہ کے حالات سے مشابہ حالات رکھتے تھے

، انہیں بہت سے مسائل کی تعلیم دیتاہے،اوراس واقعہ کے بیان کرنے کے اہداف و مقاصد میں سے ایک یہی ہے ،منجملہ ان کے : انہیں یہ بتانا ہے کہ منطقی استدلال کے طریق سے ، جودشمنوں کے ساتھ محبت اورمکمل دلسوزی سے تواُم ہو ، کس طرح تبلیغ کریں اور اس راہ میں ہرمفید اورموثر ذریعہ سے کیسے فائدہ اٹھائیں۔ انہیں یہ سکھاتاہے خدا کی طرف دعوت دینے کی راہ میں ہرگز نہ تھکیں ،چاہے سالہا سال گزرجائیںاور دشمن کتنا بھی مزاحم کیوں نہ ہو۔ انہیں یہ سبق دیتاہے کہ ایک طرف توشوق دلانے کے وسائل ہوں او ردوسری طرف ڈ رانے کے عوامل ، اور دعوت کرنے کے لیے دونوں طریقوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سورہ کی آخری آ یات ،ہٹ دھرم مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر وہ حق کے سامنے نہ جھکے اورخدا کے حکم کے سامنے انہوں نے گردن خم نہ کی ، توان کاانجام بہت درد ناک ہوگا۔٥۔ ان سب باتوں کے علاوہ یہ سورہ پیغمبراورپہلے مومنین اوران سے مشابہ افراد کی لے دل کی تسلّی کاسبب ہے کہ وہ خدا کے لطف و کرم سے اپنے پروگراموں میں سرگرم اور مشکلات اور سختیوں میں صابر وشکیبار ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ سورہ ،حق و باطل کے طرف داروں میں دائمی مبارزہ کے بیان

اوران پر و گراموں کی ، جن پرحق کے طرف داروں کو اپنی راہ میں کار بند ہوناچاہیے،تصویر کشی کرتاہے۔ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیاہے :جوشخص سورہ نوح کوپڑھے گا، وہ ان مو منین میں سے ہوجائے گا،جنہیں نوح کی دعوت کی شعاع ڈھانپ لیتی ہے ۔ایک اورحدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آ یاہے: من کان یؤ من باللہ والیوم الا خر ویقر أ کتابہ فلایدع ان یقرأ سورة “” انّا ارسلنا نوحاً “” فای عبد قرأ ھامحتسبا صابراً فی فریضة اورنا فلة اسکنہ اللہ مساکن الابرارواعطاہ ثلاث جنان مع جنتہ کرامة من اللہ ۔جوشخص خدا اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتاہے،اوراس کی کتاب کوپڑھتاہے،وہ سورہ نوح کی تلاوت کو ترک نہ کرے، جوشخص اس سورہ کو ،صبرواستقامت کے ساتھ ، خداکے لیے ،واجب یامستحب نمازمیں پڑھے گا توخدا اسے نیک افراد کی منازل میں جگہ دے گا اورجنت کے باغوں میں سے تین باغ ، اس کے اپنے باغ کے علاوہ ، اس کے احترام میں اسے مرحمت فرمائے گا۔یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ اس کی تلاوت کاہدف اورمقصد یہ ہے کہ اس عظیم پیغمبرکے طورطریقوں ، اورحق کی طرف دعوت کی راہ میں ، ان کے یار و انصار کے صبرو استقامت سے ہدایت حاصل کرے اوراس کی دعوت کی شعاع سے روشنی حاصل کرے، نہ کہ ایسا پڑھنا کہ جس میں غوروفکر نہ ہو، اور نہ ہی ایساغور وفکر کہ جس میں عمل نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *