بجلی بجھاکرکپڑے اتاروں یا روشنی میں اتاردوں اس کی سانولی کمر کی ایک جھلک نے ہی میرے حواس

مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کے لڑکپن کے دور میں مجھے گناہ سے بہت لگاؤ تھا۔ نیکی مجھے بوجھ سی لگتی تھی۔ ایک بزرگ کی وجہ سے مسجد جانا شروع کیا۔ کچھ عرصہ پانچ وقت نماز باقاعدگی سے باجماعت پڑھی

۔ شروع میں بہت مزا آیا۔ پھر سمجھ آیا کے مزہ خدا سے نزدیکی کا نہیں بلکہ مخلوق خدا پر برتری کا تھا۔ مسجد آتے جاتے اپنے کاموں میں مصروف لوگوں کو حقارت سے دیکھتا۔ بیوقوف لوگ یہ کیا جانیں قرب خدا کی لذّت اپنا قد بہت لمبا ہوتا محسوس کرنے لگا۔ پھر ایک دن میری نظر اپنے اسی قدر لمبے ہوتے ساے پر پڑی تو سمجھ آی کے قد لمبا ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی تاریکی بھی بہت بڑھ چکی تھی۔

اتنی سمجھ تو تھی نہیں کے اپنی ذات کا اندھیرا دور کر سکتا لہذا صرف نماز چھوڑ دی۔ تھوڑا اور جوان ہوا تو گناہ کو سمجھنے کا ارادہ کیا۔ سوچا جب تک اندھیرے سے واقفیت نہیں ہوگی، نور سے شناسائی مشکل۔اونچے فلسفے ایک طرف، گناہ میں کشش بھی بہت تھی۔ اس دور سے ابھی بہت دور تھا جب انسان گناہ کا گھونگٹ اٹھا کر اس کی بدصورتی دیکھتا ہے۔ جوانی میں تو گناہ ایک خوبصورت دلہن دکھائی دیتا ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کے گناہ دراصل ایک چڑیل ہے جو خوبصورت دلہن کا روپ دھارے پھرتا ہے۔ ذرا قدم بہکے نہیں اور چڑیل نے لمبے ناخنوں سے دبوچ لیا۔ اب یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کے عمر کے درمیانی حصّے میں گو یہ معلوم ہے کے گناہ ایک چڑیل ہے، مگر پھر بھی دلہن کی خوبصورتی دل لبھاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کے چڑیل کے ناخن پچھتاوا بن کر روح کو گھاؤ گھاؤ کر دیں گے مگر دل ہے کے مانتا نہیں خیر بات ہورہی تھی جوانی کی۔ گناہ کی کشش ایک دن کھینچ کر بازار حسن لے گیئ۔ ایک عجیب بازار تھا۔

امیر غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ فرق تھا تو صرف اتنا کے امیر لمبی موٹر کاروں پر اور غریب پیدل، امیر ریشمی کرتوں میں تو غریب سادہ اور پیوند لگے کپڑوں میں۔ مجھے سمجھ آ گیئ کے اس دنیا میں امیر اور غریب صرف خواہشیں خریدنے اکٹھے ہوتے ہیں مسجد میں بھی اور بازار حسن میں بھی۔ خواہش بھی شراب کی طرح ہوتی ہے، کسی کی خواہش مہنگی بلیک لیبل کی طرح، کسی کی سستی دیسی ٹھرے کی طرح، مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے، شراب کا مقصد من جلانا اور خواہش کا مقصد من بہلانالوگوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی موتیے کا ہار خریدا اور مٹھی میں دبائے سونگھنے لگا۔ مقصد تھا کے کسی کو یہ نا لگے کے میں محض تماشبینی کی غرض سے کھڑا تھا ، بلکہ لوگ مجھے پرانا پاپی سمجھیں۔ لیکن کہاں صاحب دائی سے پیٹ چھپانا ناممکن اور دلال سے ارادہ چھپانا لاحاصل۔ ایک دلال جو شکل و صورت سے ہی خبیث روحوں کا سردار دکھائی دیتا تھا، میری طرف بڑھاکیا ارادہ ہے ماسٹر اس نے پان کی پیک ایک جانب تھوکتے ہوئے کہا۔بس بازار دیکھ رہا ہوں۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے سچ پھسل گیا

بازار اس نے ایک میسنا سا قہقہہ لگایا ۔ میں نے انگلیوں میں اپنی ناک دبآیی اور واپسی کا ارادہ کیا۔ لیکن ابھی مڑنے کا سوچا ہی تھا کے سامنے کا ایک دروازہ کھلا اور ایک عورت ڈیوڑھی میں داخل ہوئی چلی ہے رسم کہ شلوار اتاری جائے۔کیا ہے اس نے مجھے دیکھ کر چیخ مارنے کے انداز سے پوچھا۔جی وہ جی وہ مجھے بخشو صاحب نے بھیجا ہے۔ میں نے گڑبڑا کر جواب دیا بخشو صاحب نے اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ اور کیوں بھیجا ہے بخشو صاحب نےجی وہ شہناز صاحبہ کے پاس جانے کو کہا تھا۔ میں نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتے جواب دیاشہناز صاحبہ اس نے شاید مزید طنز کا ارادہ کیا مگر پھر میری حالت پر ترس آ گیا۔ پیچھے آؤ میرے وہ مڑ کر اسی دروازے میں داخل ہوگیی جس سے نکلی تھی اس قدر حواس باختہ ہوچکا تھا کے بھاگنے کا خیال بھلا کر چپ چاپ اس کے پیچھے بڑھ گیا۔ چھوٹا سا نیم روشن کمرہ تھا ۔ چونکے اوسان کچھ کچھ واپس آ چکے تھے اور اس کی توجوہ بھی میری طرف مبذول نہیں تھی

تو میں نے اطمینان سے اس کا مشاہدہ شروع کیا ۔ اس کے پورے وجود میں اگر کوئی دلکشی تھی تو وہ اس کی آنکھیں تھیں۔ کہو کیا کام ہے مجھ سے اس کے ہونٹوں پے ایک شرارت آمیز مسکراہٹ ناچ رہی تھی مجھ سے کوئی جواب نا بن پایا تو میں نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔ میں اس کی نیم فلسفیانہ گفتگو سے کچھ الجھ رہا تھاکچھ نہیں چاہتے تو گناہ کی اس بستی میں کیا راستہ بھول کر آ گئے ہو ۔ وہ جھانک تو میری آنکھوں میں رہی تھی مگر مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کے جیسے اس کی نظر بہت گہرائی میں اتر کر میری روح کو ٹٹول رہی ہو۔ میں نے گھبرا کر نظریں چرا لیں میری آنکھوں میں دیکھنے سے ڈر لگتا ہے اس نے مسکرا کر پوچھا۔ پھر میرے اثبات میں ہلتا سر دیکھ کر پوچھنے لگی: کیوں ڈر لگتا ہے سچ سچ بتاؤ۔شاید تمہاری آنکھوں میں شرم نہیں ہے۔ میں نے کچھ سوچ کر جواب دیاہاں صحیح کہتے ہو۔ میری آنکھوں میں شرم نہیں ہے۔ پر جانتے ہو کیوں نہیں ہے حیرت انگیز طور پر میری اس قدر سخت بات نے بھی اس کی پیشانی پرکوئی تیوری نہیں ڈالی تھی۔طوائفوں کی آنکھ میں شرم نہیں ہوتی ۔

میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہے ، وہ ہنس کر بولی۔ جو لوگ اندر سے مر جاتے ہیں، ان کی آنکھوں میں شرم نہیں ہوتی اس کی باتیں سن کر میں گھبرا گیا تھا۔ کوئی طوائف ایسی فلسفیانہ گفتگو بھی کر سکتی ہے، یہ میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا۔ عجیب عورت تھی اور عجیب باتیں کر رہی تھی۔ شاید بیچاری کسی دماغی پریشانی یا بیماری کا شکار ہے۔ یہ سوچ ذھن میں آتے ہی میں نے آہستہ آہستہ دروازے کی طرف کھسکنا شروع کیا مگر میری یہ کوشش اس کی تیز نظروں سے نا چھپ سکی گھبراؤ نہیں، میں پاگل نہیں ہوں۔ صرف حقیقت پسند ہوں۔ اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا۔ ارے میں تو بھول ہی گیی تھی کے تم گاہک ہو۔ بجلی بجھا کر کپڑے اتاروں یا روشنی میں ہی اتار دوں اس کے ہاتھ قمیض کی پشت پر غالباً زپ کھولنے کے لئے بڑھے اور زپ کھولنے کے بعد اس نے قمیض کا دامن پکڑ کر اونچا کیا۔نہیں نہیں، رہنے دیں۔ پلیز کپڑے نا اتاریں۔ اس کی سانولی کمر کی ایک جھلک نے ہی میرے حواس باختہ کر دیےکپڑے نا اتاروں اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اوہ اچھا پہلا تجربہ ہے تمہارا فکر مت کرو۔

Sharing is caring

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *