محمد ﷺ کے شہر مدینہ میں اک غریب کا استقبال

حضرت عمر فاورق کے دور میں ایک بدو آپ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہوچکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگالیا

اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیو ی کاوقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی ، حضرت عمر فاروق اپنے روز کے گشت پرتھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا ، جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آ گ جل رہی ہے

اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتا کرو کون ہے جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں ، آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا۔ آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی دردسے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلاجاؤں گا ، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کررہا ہوں ، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہر و میں آتاہوں۔

آپ نے اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا تو لے لوگی زوجہ نےکہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے چلو اورجو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو، آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لیے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں۔ کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیر ی بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے ، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیرا لمومنین حضر ت عمرفاروق خود ہیں ، جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نےآواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے

تو یاامیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی توجیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیرالمومنین ہیں ؟ ؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہی ہیں والےعمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں ۔ اور جس کو رسول اکرم ﷺ نےدعا مانگ کر اسلام کےلیے مانگا وہی والے نا؟ آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کےکام کاج میں آپ کی بیوی ، خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے ؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں تو ں کہا آیا ہے؟؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں!!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *