یہ وظیفہ میں روزانہ کرتا ہوں اور مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا۔

نبی ﷺ کے اوپر جو شخص درود شریف پڑھتا ہے اللہ رب العزت اس کے بھی گناہوں کو معاف فرماتے ہیں یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمیں کثرت کے ساتھ کرنا چاہئے ۔نبی نے ارشاد فرمایا میری امت کے جو گناہگار ہوں گے تو ان کبیرہ گناہوں کے جو مرتکب ہوں گے ان کے لئے میں قیامت کے دن شفاعت کروں گا

اور ایک حدیث پاک میں نبی نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا چوائس دیا گیا کہ یا تو میں شفاعت کروں یا میری آدھی امت کے لوگ جنت میں چلے جائیں نبی فرماتے ہیں میں نے شفاعت کو چن لیا اس لئے کہ میری شفاعت کے ذریعے آدھی سے زیادہ اُمت جہنم کی بجائے جنت میں چلی جائے گی نبی پر درود شریف پڑھنا اپنے غم کو ختم کرنا گناہوں کو معاف کرنا چنانچہ حدیث پاک میں ہے ایک صحابی نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اے اللہ کے نبی میں آپ پر تیسر ا حصہ وقت کا درود شریف پڑھ لیا کروں فرمایا زیادہ کرو تو بہتر ہے اے اللہ کے نبی میں آدھا وقت درود شریف پڑھ لیا کرو فرمایا زیادہ کرو تو بہتر ہوگا

اے اللہ کے نبی میں تین چوتھائی وقت آپ پر درود شریف پڑھ لیا کرو فرمایا تم زیادہ کردو بہتر ہوگا اے اللہ کے نبی میں پورا وقت آپ پر درود شریف پڑھا کرو نبی نے فرمایا اگرتو ایسا کرے گا اللہ تیری پریشانیوں کو ختم کردیں گے اور اللہ تیرے سب گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔جتنا وقت ملے درود شریف پڑھتے رہیں تو دیکھو پریشانیاں ختم اور گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسی لئے فرمایا کہ جب دو دوست آپس میں ملیں واقف لوگ آپس میں ملیں ایک دوسرے کو سلام کریں اور اس وقت حدیث پاک ہے رسول پاک نے فرمایا کہ دو محبت رکھنے والے لوگ جب ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں اور ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں اور پھر وہ نبی پر درود شریف پڑھیں وہ جد ا نہیں ہوں گے حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اگلے اور پچھلے سب گناہوں کو معاف فرمادیں گے ۔بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں ان پیغمبر پر،اے ایمان والو تم بھی آپ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو ۔

دروردِ پاک پڑھنااہل ایمان پرنبی کریم کا حق ہے، چنانچہ بالغ ہونے کے بعد پوری زندگی میں کم ازکم ایک بار درود پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ نیز کسی مجلس میں جب ایک سے زیادہ بار حضور کا ذکر ہو تو کم ازکم ایک بار درود پڑھنا واجب ہے اور ہر بار درود پڑھنا افضل اور بہتر ہے۔درودشریف کے بہت سے صیغے اورطریقے منقول ہیں، علماء نے اس موضوع پر مستقل کتب لکھی ہیں، البتہ یہ ضروری نہیں کہ وہ تمام کلمات آں حضرت سے بعینہٖ منقول ہوں، بلکہ کسی بھی درست مفہوم پرمشتمل کلمات سے درود پڑھ سکتے ہیں اوراس سے حکم کی تعمیل اوردرودوسلام پڑھنے کاثواب حاصل ہوجاتاہے،مگر ظاہر ہے کہ جوالفاظ خودحضور سے منقول ہیں وہ زیادہ بابرکت وباعث اجرہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *