حائضہ عورت یہ چھوٹا سا کا م کریں اور لاکھوں نیکیاں کمائیں عورتوں کا اہم مسئلہ

حالت حیض کے اندر عورت تو نماز نہیں پڑ ھ سکتی اور روزہ نہیں رکھ سکتی ۔ اور قرآن پا ک کی تلاوت تو نہیں کر سکتی ۔ لیکن ایک کام ضرور کرے۔ جو عورت یہ کام کرے گی۔ اللہ پاک سے امید ہے اللہ پاک سے توقع ہے کہ اللہ پا ک اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں بھر دیں گے ۔ اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں سے بھر دیں گے ۔

نیکیاں بڑھا دیں گے ۔ عمو ماً ایسا ہو تاہے جب حالت حیض میں ہوتی ہے عورت۔ کسی کو چھ دن ، کسی کو سات دن، کسی دس دن، کسی کو آٹھ دن حیض رہے تو پھر یہ جو عورت کی نماز کی پابند ہوتی ہے اور باقاعدگی سے نماز پڑھ رہی ہے۔ جب بیچ میں وقفہ آجاتا ہے تو سستی اس کے اندر آجاتی ہے۔ وہ کیا کرتی ہے وہ سستی آجاتی ہے۔ اور نماز کی روٹین بناتی ہے۔ اور چھ سات روز نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ، اور قرآن پاک کی تلاوت نہ کرنے کی وجہ سے اس کی روٹین ختم ہوجاتی ہے۔ بعض عورتو ں کی بات نہیں کررہا۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں۔ اس عورت کو چاہیے کہ نماز نہ پڑھے

اور قرآن پاک کی تلاوت نہ کرے۔ لیکن حالت حیض کے اندر یا ناپاکی کے اندر عورت وظائف کرسکتی ہے۔ سبحان اللہ پڑھ سکتی ہے ۔ اللہ پا ک کے نام کا ورد کر سکتی ہے۔ تو عورت کو چاہیے کہ اس کے حالت کے اندر وضو کرکے آئے وہ پاک تو نہیں ہوگی وضو کرنے سے ۔ اوراسی ترتیب کے ساتھ بیٹھ جائے ۔ جس ترتیب سے وہ عبادت کرتی تھی ۔ نماز نہیں پڑھنی ۔ بس عادت ختم نہ ہو۔ آپ نے اپنی عادت کو خراب نہیں کرنا ہے۔ اس عادت کو برقرار رکھنے کے لیے وہ عورت اس جگہ پر آکر بیٹھ جائے۔ اور وہاں پر تسبیحات کرے۔اور استغفراللہ پڑھے۔ اور سبحان اللہ پڑھے۔ تاکہ آپ کی جو عادت بنی ہوئی ہے وہ عادت آپ کی خراب نہ ہو۔ یہ کام ایک عورت لازمی کرے۔ انشاءاللہ عزیز اس عورت کو بہت فائد ہ حاصل ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *