رات کو 21 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھیں ،بے شمار اہمیت اور فضیلت

ابو سعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ قل ھو اللہ احد کو بار بار پڑھ رہا ہے تو وہ صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پا‎س آۓ اور اس بات کا تذکرہ کیا ، گویا کہ انہوں نے اسے قلیل جانا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے

( اس ذات کی قسم جس کے ھاتھ میں میر ی جان ہے بیشک یہ سورۃ قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے)۔ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا تم میں سے کوئ ایک رات میں قرآن کا تیسرا حصہ پڑھنے سے عاجز ہے ؟ تو صحابہ کرام کہنے لگے قرآن کا تیسرا حصہ کس طرح پڑھا جاۓ ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قل ھواللہ احد قرآن کےتیسرے حصہ کے برابر ہے ۔ابوھریرہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں

کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جمع ہوجاؤ کیونکہ میں تم پر قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں گا تو جمع ہوا وہ ہوگیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاۓ اور قل ھو اللہ احد پڑھی اورپھر چلے گۓ ، تو ہم ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ آسمان سے کوئ خبر آئ ہے جس کی بنا پر آپ اندر چلے گۓ ہيں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاۓ اور کہنے لگے کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں تم پر قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں گا خبردار بیشک یہ قرآن کے تیسرے حصہ کےبرابر ہے ۔اللہ تبارک وتعالی کا فضل بڑا وسیع ہے ، اوراللہ تعالی نے اس امت پر بڑا فضل وکرم کیاہے کہ اس کی عمر کم ہونے کے عوض چھوٹے چھوٹے کاموں پر بہت ہی زیادہ اجرو ثواب رکھا ہے ، اور اس بات پر تعجب ہے کہ کـچھ لوگ خیر اور بھلائ کے کام زیادہ کرنے کی حرص رکھیں وہ اس کے بدلہ میں سستی اور اطاعت میں کاہلی کا شکار ہوگۓ ہیں ، یا پھر وہ اس اجرو ثواب پر تعجب کرتے اور اسے بعید سمجھتے ہیں ۔ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے

ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئیے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے، انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا، تم چاہو تو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی، جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب سے کہا: تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *