اولاد آپ کی ہر بات مانے گی صرف یہ چیز کھانے میں ملا کر بچوں کو کھلائیں ۔

اگر آپ چاہتے کہیں کہ آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار رہے تو آپ کو چاہئے کہ اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج سے اُن کی فرماں برداری شروع کر دیں اور اگر آپ کے والدین گزر گئے ہیں تو اُن کے لیے مغفرت کی دعائیں کریں
کثرت کے ساتھ۔ آپ کے گزرے ہوئے والدین کے لیے آپ کا اُن کے پیچھے رہ جانے والوں سے اچھا سلوک اُن کی مغفرت کا باعث بنتا ہے۔ سب سے اہم بات ہے یہ کہ جس خالق نے آپ کو پیدا کیا ہے، آپ اُس کے کتنے فرماں بردار ہیں؟ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بطن سے نکلے ہوئے بچے، جن کے آپ خالق نہیں ہیں، بلکہ ایک ذریعہ ہیں، وہ آپ کے فرماں بردار ہو جائیں، تو جس نے آپ کو پیدا کیا ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ آپ اُس کے فرمانبردار ہو جائیں، آپ اپنی فرماں برداری پروردگار کے لیے بڑھا دیں تاکہ آپ کی اولاد آپ کی فرماں بردار ہو جائے اور زندگی کا صحیح سکون اور راحت آپ کو نصیب ہو۔ اس کی دلیل قرآن مجید کا مشہور قصہ حضرت خضر اور حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہما السلام کا ہے۔ چنانچہ ارشاد مبارکہ ہے:دیوار کا قصہ یہ ہے

کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔ان آیات کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے: آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ اس دیوار کو درست کردینے میں مصلحت الہٰی یہ تھی کہ یہ اس شہر کے دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے ان کا مال دفن تھا ۔ مذکور ہے کہ یہ دونوں یتیم بوجہ اپنے ساتویں دادا کی نیکیوں کے محفوظ رکھے گئے تھے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی حاصل کرلیتے ہیں۔ جیسے قرآن میں صراحتا مذکور ہے۔ دیکھئے آیت میں ان کی ذاتی کوئی صلاحیت بیان نہیں ہوئی، ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیکی عملا بیان ہوئی ہے اور پہلے گزر چکا ہے

یہ باپ جس کی نیکی کی وجہ سے ان کی حفاظت ہوئی یہ ان بچوں کا ساتواں دادا تھا۔ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک آدمی کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کا اچھا بدلہ اس کی اولاد کو دیا کرتا ہے۔ مرنے والا چونکہ نیک انسان تھا لہذا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس کا مدفون خزانہ یا ورثہ دوسرے لوگ نہ اڑا لے جائیں، بلکہ اس کی اولاد کے ہی حصہ میں آئے۔اسی طرح اگر اولاد اعمال میں کچھ کمزور ہو اور والدین خود نیک ہوں تو اللہ تبارک وتعالیٰ جنت میں کم درجہ والی اولاد کو والدین سے ملادیں گے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے۔یعنی والدین نیک اور پرہیز گار تھے۔ اولاد نے اپنے والدین کی پیروی کی کوشش تو کی مگر نیکی اور پرہیز گاری میں اس درجہ تک نہ پہنچے جو والدین کا درجہ تھا تو اللہ تعالیٰ اولاد پر یہ مہربانی فرمائیں گے کہ ان کو بھی ان کے والدین کے درجہ تک پہنچا کر جنت میں ان کے والدین کے ساتھ ملا دیں گے تاکہ والدین اور اولاد جیسے دنیا میں اکٹھے رہے تھے جنت میں بھی اکٹھے رہ سکیں اور والدین اور اولاد دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔

اس سلسلہ میں یہ نہ ہوگا کہ والدین کا کچھ درجہ کم کردیا اور اولاد کا کچھ بڑھا دیا اور دونوں کو ایک درمیانی درجہ کے مقام میں جنت میں ملا دیا بلکہ اولاد کا درجہ ہی بڑھایا جائے گا والدین کاکم نہیں کیا جائے گا۔ایک اور بڑی وجہ بچوں کی نافرمانی کی وہ یہ بھی ہے کہ ان کی دماغی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ان سے منرلز ختم ہوجاتے ہیں ان کے جسم سے سالٹ ختم ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بچے بگڑ جاتے ہیں نمک کردار بناتا ہے نمک افکار بناتا ہے یہ ہماری باڈی میں وفا پیدا کرتا ہے یہ نمک ہمارے اندر شعور پیداکرتا ہے یہ ہمارے جسم میں اس چیز کو بڑھاتا ہے جس سے ہمارے اندر میں صبر پیداہوتا ہے ۔اس لئے گھروں میں لال نمک استعمال کیجئے بچے آپ کے وفادار رہیں گے ان کی دماغی صلاحیت اچھی رہے گی اور وہ فرمان بردار رہیں گے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *