رزق میں برکت کا قرآنی وظیفہ

یہ وظیفہ رزق میں اضافے کے لئے بہت ہی مفید ہے اور اس وظیفہ کو اولیاء اللہ نے کئی مرتبہ آزمایا ہے اور مجرب قرار دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ ہر بیماری پریشانی تکلیفوں او ر مالی پریشانیوں کو اس عمل سے دو کردے گا۔ غموں کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے کا ایک وظیفہ بتائیں گے ۔ حم لاینصرون کا معنی اور مطلب کیا اس کی فضیلت کیا ہے
اور فائدے کیا ہیں وہ بتائیں گے ۔آپ رزق حلال کیساتھ پانچ وقت نماز پڑھیں اور طاقت کے مطابق صدقہ خیرات کا پابند بنائیں خود کو تو آپ جلد از جلد منزل مقصود کو پہنچ جائیں گے۔ حم لاینصرون کا ترجمہ کیا ہے حم حروف مقطعات میں سے ہے اور بہت ساری قرآن کی سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات ہیں۔ حروف مقطعات کے بارے علماء اور مفکرین لکھتے ہیں ان معنی مقصد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔لاینصرون کا مطلب وہ کامیاب نہ ہوں وہ ناکام لوٹ جائیں یہی ترجمہ اس کا بنتا ہے

حم بہت ساری سورتوں کے شروع میں ہے ہر چیز کا مغز اور خلاصہ ہوتا ہے ۔قرآن کریم کا خلاصہ حم ہے اس کی بہت ساری برکات ہیں۔ یہ حروف مقطعات ان کو ایک کاغذ پر لکھ کر اپنے پرس میں رکھ دیں۔ حم بہت برکت والا لفظ ہے ۔ حضور ﷺ نے کس موقع پر اپنے شاگردان کو تلقین فرمایا تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ پر دو موقعے بڑے مشکل تھے ۔ ایک غزوہ بدر کا موقع اور غزوہ خندق کا موقع تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ فوراً اللہ کے رجوع کھڑے ہوگئے ۔ اتنا طویل سجدہ کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کہنا پڑا اللہ کے رسول ؐ سجدے سے سر اُٹھائیں اللہ کی مدد آچکی ہے ۔معمول تھا آپﷺ او ر صحابہ کرام ؓ فوراً اللہ کے حضور کھڑے ہوجاتے اور دعائیں مانگتے ۔غزوہ خندق کے موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو جو کلمات ارشاد فرمائے حم لاینصرون کثرت سے پڑھا جائے ۔ اللہ نے مشرکین کو ذلیل ورسوا کیااور وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ آپ کو بیماریاں ہیں

تکلیفیں، والدین بیمار ہیں کاروباری الجھنیں ہیں یا کاروبار کی مجبووریاں قرض ہیں بیٹے بیٹی کے رشتے کا مسئلہ یا کوئی بھی الجھن ہے تو آپ حم لاینصرون کا ورد کریں اور کچھ دن مسلسل پڑھ کرآخر میں عشاء کےوقت صلوۃ حاجت کے دو رکوٰۃ پڑھیں انشاء اللہ آپ کے سب مسائل کا حل ہوگا۔ حم لاینصروں اسم اعظم ہے یہ کلمات آپﷺ نے اپنے صحابہ کرا م کو تلقین کی تھی جس سے صحابہ کرام ؓ کے حالات ٹھیک ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر پریشانی وتکالیف سے نجات عطاء فرمائے گا۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *