گردوں فیل کیوں ہوجاتے ہیں ؟

گردوں کےخراب ہونے کے پیچھے سب سے بڑا سبب خوف ہے یہ جو ڈر اور کوف ہے یہ ناصرف ہمارے گردوں کو بلکہ جو ہمارا یورینلی ٹریک ہے جو ہمارا نظام اخراج ہے اور خاص طور پر یہ جو پیشاب کرنے والے آرگن ہے یہ سب سے زیادہ خراب ہوتے ہیں ڈر اور خوف کی وجہ سے اور یہ ڈر اور خوف کیا ہے اس کو پیارے پیغمبر جناب محمد ﷺ کی اس حدیث سے سمجھئے

نبی ﷺ نے فرمایا ایک دل میں دو ڈر جمع نہیں ہوسکتے اس کے دل میں اللہ کا خوف ہے اس کے دل میں دنیا کا کوف نہیں آسکتا اور جس کے دل میں دنیا کا ڈر اور خوف ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس دل میں اپنا ڈر اور خوف آنے نہیں دیں گے رب تعالیٰ شریک برداشت نہیں کرتے گردوں کا ڈر اور خوف سے کیا تعلق ہے اپنے ماضی میں چلتے ہیں اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا ڈر اور خوف کا تعلق ہمارے گردوں کے ساتھ کہیں ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے ٹیچر کا ڈر ہوتا تھا ہمارے ماں باپ کا ڈر ہوتا تھا ہمیں اپنے بڑوں کا ڈر ہوتا تھا

تو ان کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے ہمارا یورین نکل جاتا تھا ہمارا یورین پاس ہوجاتاتھا یہ ڈر کی وجہ سے یورین کا پاس ہونا یہ آپ کے پیشاب اور پاخانے کا نکل جانا ڈر کی وجہ سے خوف کی وجہ سے جب کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو ایک دم ایسا خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کے سٹول اور یورین پاس ہوجاتےہیں یہ ڈر اور خوف ایک ایسی کیفیت ہے جو گردوں کو ڈیمیج کردیتی ہے اور آج پوری کائنات کے اندر ولوگوں کے اندر باقاعدہ پری پلان ایک مناپلی کے ذریعے سے یہ ڈر اور خوف پیدا کیا جارہا ہے سوشل پرنٹ الیکٹرانک میڈیا کے اوپر جدھر دیکھوگے آپ کے اندر ایک ڈر کی کیفیت پائی جارہی ہے جتنے نیوز چینل ہیں وہ آپ کو چوبیس گھنٹے بریکنگ نیوز کس چیز کی دے رہے ہیں فلاں شہر میں یہ ہوگا فلاں شخص نے یہ کردیا بھائی نے بہن نے ساس نے یہ کردیا یہ ساری انفارمیشن صرف اور صرف آپ کے اندر اس ڈر اور خوف کو پیدا کرنے کے لئے ہے یہ ڈر اور خوف جو آپ لوگوں کے اندر پیدا کیا جارہا ہے اس کے پیچھے وجہ کیا ہے کیونکہ وہ لوگ جان چکے ہیں کہ یہ ڈر اور خوف اگر اللہ کا ڈر ہوگا اور اللہ کا خوف ہوگا تو دل میں کوئی اور ڈر اور خوف تو آہی نہیں سکتا اب یہ چوبیس گھنٹے کی معلومات جس کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے

معلومات سوچ بناتی ہے سوچ فکر بناتی ہے فکر یقین بناتا ہے یقین ایک قدر بناتا ہے قدر حد بناتی ہے حدود کریکٹر بناتی ہیں کریکٹر ایکشن بناتے ہیں اور ایکشن رویے بناتے ہیں اور ریے عادات بناتے ہیں اور عادات شخصیت بناتے ہیں جیسی انفارمیشن ہوگی ویسی آپ کی پرسنیلیٹی بن جائے گی کیونکہ انفارمیشن خیال بناتی ہے خیال سوچ بناتا ہے سوچ یقین بناتا ہے یقین آپ کی حدود بناتا ہے اور حدود آپ کی ویلیوز بناتا ہے اور ویلیوز آپ کا کردار بناتی ہیں اور وہ کردار آپ کا عمل بناتا ہے اور وہ عمل آپ کا رویہ بناتا ہے اور وہ رویہ آپ کی عادت بن جاتا ہے اور جیسی عادت ہوگئی ویسی شخصیت بن جائے گی۔ آج چوبیس گھنٹے آپ کو یہ معلومات کیوں دی جارہی ہے آپ کے اندر ڈر آپ کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنا ہر دومنٹ کے بعد ایک بریکنگ نیوز کیوں دی جاتی ہے تا کہ یہ ڈر اور خوف ہمارے جسم میں رائج ہو ہمارے جسم پر مسلط ہو اور ہمارے گردے اس سے خراب ہوں سب سے زیادہ گردے خراب ہوتے ہیں ڈر اور خوف کی وجہ سے اور یہ ڈر اور خوف ہمیں ملتا ہے انفارمیشن کی وجہ سے اور انفارمیشن کی دو قسمیں ہیں ایک انفامیشن وہ ہے جو آسمان سے آتی ہے اور ایک انفارمیشن وہ ہے جو زمین والوں کی ہے جو آسمان والوں کی معلومات ہے وہ آسمان والوں کی طرح کامل مکمل ہے اور جو زمین والوں کی معلومات ہے وہ زمین والوں کی طرح ناقص اور نامکمل ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *