ستمکار حکومت میں ایک ملازم کی توبہ

عبد اللہ بن حمّاد، علی بن ابی حمزہ سے نقل کرتے ہیں : میرا ایک دوست بنی امیہ کی حکومت میں نوکری کرتا تھا، اس نے مجھ سے کھا: حضرت امام صادق علیہ السلام سے میرے لئے اجازت لے لو تاکہ میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوسکوں، میں نے امام علیہ السلام سے اجازت لی، امام نے اجازت دی، چنانچہ وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، سلام کیا اور بیٹھتے ہوئے کھا

: میں آپ پر قربان، میں بنی امیہ کی حکومت میں ملازم ہوں، میں نے بھت زیادہ مال و ثروت جمع کیا ہے، اور مال جمع کرنے میں شرعی قوانین کی مطلقاً رعایت ن ہیں کی ہے۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر بنی امیہ کو کوئی کاتب نہ ملتا اور مال غنیمت حاصل نہ ہوتا، اور ایک گروہ ان کی حمایت میں جنگ نہ کرتا تویہ میرے حق کو ن ہیں لے سکتے تھے، اگر لوگ ان کو چھوڑ دیتے اور ان کی تقویت نہ کرتے تو کیا وہ کچھ کرسکتے تھے؟یہ سن کر اس جوان نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا:

آیا میں اس عظیم بلاء سے نجات حاصل کرسکتا ہوں؟ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا میرے کہنے پر عمل کروگے؟ اس نے کھا: جی ھاں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بنی امیہ کی اس ملازمت سے جتنا مال حاصل کیا ہے اگر ان کے مالکوں کو جانتے ہو؟ تو ان ہیں دیدو او راگر ن ہیں جانتے تو ان کی طرف سے صدقہ دیدو، میں خدا کی طرف سے جنت کی ضمانت دیتا ہوں، وہ جوان کافی دیر تک خاموش رھا او رپھر عرض کی: میں آپ پر قربان جاؤں، آپ کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہوں۔علی بن ابی حمزہ کھتے ہیں : وہ جوان ھمارے ساتھ کوفہ واپس آیا، اور حضرت کے حکم کے مطابق عمل کیا، اور اس کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔اس نے اپنا پیراہن بھی راہ خدا میں دیدیا، میں نے اس کے لئے پیسے جمع کئے اس کے لئے لباس خریدا اور اس کے اخراجات کے لئے مناسب خرچ بھیج دیا، چند ماہ کے بعد وہ مریض ہوگیا تو میں اس کی عیادت کے لئے گیا،

اسی طرح چند روز اس کی عیادت کے لئے جاتا رھا، لیکن جب آخری روز اس کی عیادت کے لئے گیا، تو اس نے اپنی آنک ہیں کھولیں اور مجھ سے کھا: خدا کی قسم! امام صادق علیہ السلام نے اپنے وعدہ وفا کردیا ہے، اور یہ کھتے ہی وہ اس دنیا سے چل بسا، ھم نے اس کے کفن و دفن کا انتظام کیا، ایک مدت کے بعد حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہواتو امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم ھم نے تمھارے دوست کی نسبت اپنا وعدہ وفا کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہوجاؤں، آپ صحیح فرمارہے ہیں اس نے مرتے وقت مجھے اس بات کی خبر دی تھی۔

Sharing is caring

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *