میاں بیوی اگر یہ وظیفہ پڑھ کر دعاء کرے تو یہ ہوہینہیں سکتا کہ دعا قبول نہ ہو۔

کہتے ہیں کہ ایک بچی نے لکھا ہے کہ ہم میاں بیوی نے میڈیکل چیک اپ بھی کروایا ہے اور میڈیکل چیک اپ میں ہم دونوں ٹھیک ہیں لیکن پھر بھی اولاد نہیں ہو رہی تو ایسے لوگوں کو قرآن میں جو دعائیں پیغمبروں نے کی ہیں جیسے رب لا تذرنی فردا وانت خیر الوارثین اسی طرح رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ انک سمیع الدعا یہ دعائیں زیادہ مانگا کرو اور تیسری بات یہ ہے

کہ جب بھی اللہ موقع دے میاں کو بھی بیوی کو بھی سورت یوسف پڑھ کر دعا کیا کرو کم از کم ہفتے میں ایک دفعہ تو پڑھ لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ وماذالک علی اللہ بعزیز اللہ کے آگے کیا مشکل ہے ۔ ہر انسان میں اللہ تعالی نے فطری طور پر اولاد کی محبت رکھی ہے، اور شادی کا بنیادی مقصد بھی افزائش نسل ہے، لیکن اولاد کے حاصل نہ ہونے کی صورت میں انسان کو ناشکری اور احساس کمتری میں مبتلاء نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوکر دعائیں مانگنی چاہئیں، اور ساتھ ساتھ علاج ومعالجہ جاری رکھتے ہوئے

نیک اعمال اور خصوصاََ مندرجہ ذیل وظائف کا اہتمام کرناچاہیے: رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْداً وَّاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ ہر نماز کے بعد سات مرتبہ پڑھیں۔ بکثرت استغفار پڑھا کریں۔کم از کم سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو پڑھنے کا اہتمام کریں۔سورہ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مندرجہ ذیل آیت میں استغفار کی ترغیب اور اس کے فوائد بیان کیے :فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا چنانچہ میں نے کہا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا۔ صلاة الحاجة پڑھنے کا اہتمام کریں۔ حدیث میں ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے کوئی خاص حاجت یا اس کے کسی بندے سے کوئی خاص کام پیش آجائے تو اس کو چاہیے

کہ خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت (اپنی حاجت کی نیت سے) نمازِ حاجت پڑھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، اور درود شریف پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: لَا اِلٰـهَ اِلَّا اللّٰهُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ کُلِّ ذَمنْبٍ، وَالْغَنِیْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَّالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِیْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَه وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَه وَلَا حَاجَةً هِيَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَیْتَهَا یَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ اپنی وسعت کے مطابق صدقہ دینے کا اہتمام کریں، کیونکہ صدقہ بلاوں اور مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ:تصدقوا وداووا مرضاكم بالصدقة؛ فإن الصدقة تدفع عن الأعراض والأمراض، وهي زيادة في أعمالكم وحسناتكم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صدقہ دو اور اپنے مریضوں کا صدقے کے ذریعے علاج کرو ؛ اس لیے کہ صدقہ پریشانیوں اور بیماریوں کو دور کرتاہے اور وہ تمہارے اعمال اور نیکیوں میں اضافے کاسبب ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *